ایک دن نیشنل کالج آف آرٹس کے ایک فارغ التحصیل آرٹسٹ تشریف لائے اور روایتی خطاطی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا "یہ کیا فن ہوا کہ آپ سب خطاط ایک ہی انداز میں، ایک ہی پیمائش میں الفاظ لکھتے ہیں، اس طرح اسے تخلیقی عمل تو نہیں کہا جا سکتا"۔
میں نے اپنی سکیچ بک ، سیاہی اور ایک برش پیش کرتے ہوئے کہا "آپ اس کاغذ پر دائیں سے بائیں برش سے دس سٹروکس لگائیں اور کوشش کریں کہ یہ کم و بیش ایک سائز کی ہوں۔
جب وہ کر چکے تو میں نے ان سے کہا کہ ان سٹروکس کی کوالٹی کے مطابق ان پر نمبر لگا دیں یعنی پہلے نمبر پر کون سی ہے ، یونہی ترتیب سے نمبر لگنے کے بعد میں نے عرض کی کہ " آپ نے دس سٹروک لگائے اور خود تسلیم کیا کہ ان میں سے ایک سب سے بہتر ہے، فن خطاطی ہم سے محض یہ مطالبہ کرتا ہے کہ کم از کم آئندہ بننے والی سٹروک پہلے والی سے معیار میں کم نہ ہو۔ جب تک ہم پہلی اعلی ترین سٹروک سے بہتر سٹروک بنانے میں کامیاب نہ ہو جائیں ہمیں پہلی سٹروک کی پیمائش کر کے اس کے معیار کو برقرار رکھنا ہو گا"۔ میرا اصرار تھا کہ تمام فنون میں آگے بڑھنے کا یہی کلیہ رہا ہے۔
اس عملی مثال سے ہمارے دوست مطمئن ہو گئے اور اعتراف کیا کہ وہ خطاطی کے بارے میں پہلے ایک سطحی رائے رکھتے تھے۔
0 comments:
Post a Comment